سورة الصف - آیت 12

يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

وہ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا، اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور جنات کی عدن کی عمدہ رہائش گاہوں میں ٹھہرائے گا، یہی عظیم کامیابی

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ يُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ: ’’يَغْفِرْ‘‘اور’’ يُدْخِلْ‘‘ پر جزم ’’ تُؤْمِنُوْنَ‘‘ اور ’’تُجَاهِدُوْنَ ‘‘ کا جواب ہونے کی وجہ سے آئی ہے، کیونکہ وہ امر کے معنی میں ہیں اور امر کے جواب میں مضارع آئے تو اس پر جزم آتی ہے۔ وَ مَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ: ’’ مَسٰكِنَ طَيِّبَةً ‘‘ کا خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ آدمی کی پسندیدہ ترین چیزوں میں اس کا مسکن بھی ہے جسے چھوڑے بغیر جہاد ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ مساکن چھوڑنے کے عوض ’’ مَسٰكِنَ طَيِّبَةً ‘‘ کی بشارت سنائی، جن میں دوام کی خوبی بھی ہے، جب کہ دنیا کے مساکن کسی کے پاس رہنے والے نہیں۔ سورۂ توبہ میں فرمایا : ﴿قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَا اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ﴾ [التوبۃ : ۲۴ ] ’’کہہ دے اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا خاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات، جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ: خبر ’’ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ‘‘ پر الف لام سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، یعنی فوز عظیم صرف یہ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت کے سوا کوئی اور چھوٹی کامیابی بھی ہے، بلکہ ’’ الْعَظِيْمُ ‘‘ کا لفظ صرف اس کامیابی کی عظمت کے بیان کے لیے آیا ہے، ورنہ کامیاب صرف وہ ہے جو آخرت میں کامیاب ہے، کوئی دوسرا حقیقت میں کامیاب ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا : ﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ﴾ [آل عمران : ۱۸۵ ] ’’پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقیناً وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔‘‘