سورة يس - آیت 71

أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

کیا وہ لوگ دیکھتے نہیں کہ جن چیزوں کو ہمارے ہاتھوں نے بنایا ہے، انہی میں سے ہم نے ان کے لئے چوپائے (٣٥) پیدا کئے ہیں، جن کے وہ مالک بنے پھرتے ہیں

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ ....: یہاں سے پھر توحید اور اس کے بعد آخرت کے دلائل کا بیان ہے۔’’ اَنْعَامًا ‘‘ ’’نَعَمٌ‘‘ کی جمع ہے، یعنی کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ یہ جانور جن کے یہ مالک بنے ہوئے ہیں، یہ سب ہم نے پیدا کیے ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا ذکر قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی ہے اور ان پر ایمان رکھنا اور ان کی کیفیت اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا واجب ہے، تاہم یہاں اہلِ علم نے ’’اپنے ہاتھوں سے‘‘ بنانے کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ ہم نے انھیں کسی کی شرکت یا واسطے کے بغیر خود بنایا ہے۔ ان کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔ (فتح البیان)