سورة آل عمران - آیت 86

كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اللہ تعالیٰ کیسے ہدایت دے گا ایسے لوگوں کو جو ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر (64) ہوگئے، اور اپنی اس گواہی کے بعد کہ رسول برحق ہے، اور ان کے پاس کھلی نشانیاں آجانے کے بعد، اور اللہ تعالیٰ ظالم قوموں کو ہدایت نہیں دیتا

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

1۔ یعنی جو لوگ حق کے پوری طرح واضح ہو جانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا نبی ہونے کے روشن دلائل دیکھنے کے باوجود محض کبر و حسد اور مال و جاہ کی محبت کی بنا پر کفر کی روش پر قائم رہے، یا ایک مرتبہ اسلام قبول کر لینے کے بعد پھر مرتد ہو گئے تو وہ سراسر ظالم و بدبخت ہیں، ایسے لوگوں کو راہِ ہدایت دکھانا اللہ تعالیٰ کا قانون نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرتد شخص کافر سے زیادہ مجرم ہے۔ ( ابن کثیر، شوکانی) 2۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے ایک اور آیت کے ساتھ اس کی بہترین تفسیر فرمائی کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں، وہ اپنی کتابوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موجود پاتے تھے، ان کی آمد پر ان کے ذریعے سے فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے (گویا آپ پر ایمان رکھتے تھے) جب آپ تشریف لائے تو انھوں نے آپ کے ساتھ کفر اختیار کیا، جیسا کہ ارشاد فرمایا:﴿ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ﴾ [البقرۃ:۸۹ ] ’’حالانکہ وہ اس سے پہلے ان لوگوں پر فتح طلب کیا کرتے تھے جنھوں نے کفر کیا، پھر جب ان کے پاس وہ چیز آ گئی جسے انھوں نے پہچان لیا تو انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا، پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘ (طبری بسند حسن )