سورة العنكبوت - آیت 43

وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ: یہ کفار کے اس سوال کا جواب ہے کہ مکڑی، مچھر اور مکھی وغیرہ جیسی حقیر چیزوں کی مثال کی کیا ضرورت تھی؟ جیسا کہ فرمایا : ﴿ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَيَقُوْلُوْنَ مَا ذَا اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ﴾ [ البقرۃ : ۲۶ ]’’اور رہے وہ جنھوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں اللہ نے اس کے ساتھ مثال دینے سے کیا ارادہ کیا؟‘‘ جواب دیا کہ مثال کا مقصد بات کو سمجھانا ہوتا ہے، کیونکہ مثال سے بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے، مگر ان مثالوں کو صرف علم والے سمجھتے ہیں۔ وَ مَا يَعْقِلُهَا اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ : ’’ الْعٰلِمُوْنَ ‘‘ (جاننے والوں) سے مراد ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی بے شمار نشانیوں پر سوچ بچار کرتے ہیں، ایسے لوگ ہی راسخ فی العلم کہلانے کے حق دار ہیں۔