سورة القصص - آیت 39

وَاسْتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ إِلَيْنَا لَا يُرْجَعُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور وہ اس کے فوجی زمین میں ناحق کبر (٢٠) کرتے تھے اور گمان کربیٹھے تھے کہ وہ ہمارے پاس لوٹ کر آئیں گے

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِي الْاَرْضِ: ’’الْاَرْضِ‘‘سے مراد زمین مصر ہے۔ یعنی بڑائی کا حق تو صرف اللہ رب العالمین کو ہے، مگر یہ لوگ ایک ذرا سے ملک میں اقتدار پا کر یہ سمجھ بیٹھے کہ بس ہم ہی بڑے ہیں۔ وَ ظَنُّوْا اَنَّهُمْ اِلَيْنَا لَا يُرْجَعُوْنَ: یعنی چند روزہ اقتدار پاکر وہ سمجھ بیٹھے کہ ان کے اوپر کوئی ہستی نہیں، جس کے سامنے مر کر انھیں پیش ہونا ہے، لہٰذا کھلی چھٹی ہے جو چاہیں کریں اور ملک میں جو فساد پھیلانا چاہیں پھیلاتے رہیں۔