وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَ
اسی نے زمین میں پہاڑ بنا کر اس کے اوپر رکھ دیا ہے، اور اس میں برکت ڈال دی ہے، اور چار دنوں میں اس میں پائے جانے والے اسباب زندگی کا بندوبست کیا، پورے چار دنوں میں ( یہ جواب) پوچھنے والوں کے لئے ہے
اور کیا تم اس ذات واحد کی الوہیت کا انکار کرتے ہو، جس نے زمین کے اوپر بڑے بڑے پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ دیئے ہیں اور جس نے زمین میں بنی نوع انسان کے لئے نوع بہ نوع نعمتیں پیدا کی ہیں اور اس کی سطح پر نہریں جاری کیں، درخت اگائے اور چوپائے پیدا کئے اور ہر ملک کے رہنے والوں کو ان کے مزاج کے مطابق روزی دی ہے۔ یہ نوع بہ نوع نعمتیں اور روزی کی کثرت اللہ تعالیٰ کی برکت کا ہی نتیجہ ہے۔ یہ سارے کام اللہ تعالیٰ نے چار دن کی مدت میں کئے ہیں اتوار اور سوموار دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا اور منگل اور بدھ دو دنوں میں مذکورہ بالا باقی کام کیا۔