سورة الروم - آیت 36

وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزا (٢٢) چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتے ہیں اور جب انہیں اپنے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت جلد ناامید ہوجاتے ہیں

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

(22) بالعموم بنی نوع انسان کا حال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے صحت و روزی اور دیگر نعمتوں سے نوازتا ہے۔ تو لوگوں کے سامنے فخر کرنے لگتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اسے اپنی عقل و دانش کا نتیجہ بتانے لگتا ہے اور جب اس کے کرتوتوں کی پاداش کے طور پر اس پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے، تو اللہ کی رحمت سے یکدم ناامید ہوجاتا ہے، لیکن اہل ایمان عام لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں انہیں جب پریشانی لاحق ہوتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور جب اللہ کی نعمت ملتی ہے تو نیک اعمال کی طرف مزید توجہ کرتے ہیں سورۃ ہود آیت (11) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ ” جو اہل ایمان صبر اور عمل صالح کو اپنا شیوہ بناتے ہیں“ وہ نہ فخر کرتے ہیں اور نہ ہی اللہ کی رحمت سے ناامید ہوتے ہیں، صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا :” مومن کا حال بھی عجیب ہے، اللہ کا ہر فیصلہ اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے اور یہ مرتبہ مومن کے سوا کسی دوسرے کو حاصل نہیں اگر اسے خوشی ملتی ہے اور شکر ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور صبر کرتا ہے تو بھی اس کے لئے بہتر ہے۔ “