سورة المؤمنون - آیت 99

حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

یہاں تک کہ جب ان کافروں میں سے کسی کی موت (٣٢) قریب ہوتی ہے تو کہنے لگتا ہے کہ میرے رب ! مجھے دنیا میں دوبارہ لوٹا دے۔

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

32۔ سلسلہ کلام مشرکین مکہ سے متعلق ہے کہ وہ اپنے کفر و ضلالت پر ہی جمے رہیں گے، یہاں تک کہ جب انہیں اپنی موت کے آثار آنے لگیں گے اور ان کے گناہوں کے سیاہ بادل ان کی آنکھوں کے سامنے منڈلانے لگیں گے، تو کہیں گے کہ میرے رب ! مجھے مہلت دے، تاکہ دنیا میں رہ کر نیک کام کروں، تو اللہ تعالیٰ ان کی طلب کو رد کردے گا اور کہے گا کہ اب ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ ﴿ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا﴾ کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بات یونہی ان کی زبان سے نکل رہی ہے، اگر ایسا کر بھی دیا جائے تو بھی وہ اپنے کفر پر جمے رہیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام آیت (28) میں فرمایا ہے : ﴿ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ﴾ اگر وہ دنیا کی طرف لوٹا بھی دیئے جائیں گے تو جس کفر و شرک سے انہیں روکا گیا تھا وہی دوبارہ کرنے لگیں گے۔