سورة مريم - آیت 82

كَلَّا ۚ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

ہرگز نہیں، وہ تو ان کی عبادت کے منکر ہوجائیں گے اور الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے۔

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

لیکن قیامت کے دن معاملہ ان کے خیال و گمان کے برعکس ہوگا، وہ جھوٹے معبود ان کی عبادت کا انکار کرردیں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحقاف آیت (6) میں فرمایا ہے : ﴿ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ﴾ جب لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے تو ان کے شرکا ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔