سورة الانعام - آیت 85

وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور زکریا اور یحیی اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی (راہ راست دکھائی تھی) یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٨٣] شرک کو ختم کرنا سب سے بڑا جہاد ہے :۔ قرآن میں اکثر مقامات پر جب انبیائے کرام کا ذکر ہوا تو اس میں ترتیب زبانی بھی پائی جاتی ہے لیکن یہاں غالباً اس صفت کو زیادہ تر ملحوظ رکھا گیا ہے کہ ان میں سے کس نے شرک کے خلاف سب سے زیادہ جہاد کیا تھا یا بعض دوسری صفات کو ملحوظ رکھا گیا ہے تو ان میں سے سرفہرست سیدنا ابراہیم کا ہی ذکر کیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسی صفت کی بنا پر (اُمَّۃً قَانِۃً) فرمایا اور اپنا دوست بنایا۔ پھر سیدنا ابراہیم پر انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے بیٹے اسحاق اور پھر ان کے بیٹے یعقوب کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور آئندہ کے لیے نبوت انہیں کی اولاد سے مختص کردی، بعد ازاں سیدنا نوح کا ذکر فرمایا جنہوں نے ساڑھے نو سو سال کا طویل عرصہ شرک ہی کے خلاف جہاد میں گزارا تھا۔ حالانکہ ان کا زمانہ سیدنا ابراہیم سے بہت پہلے کا ہے۔ ان پر انعام یہ ہوا کہ ان کے بعد نبوت آپ کی اولاد میں مختص ہوگئی تھی پھر اس کے بعد سیدنا داؤد اور ان کے بیٹے سیدنا سلیمان کا ذکر فرمایا۔ جنہیں نبوت کے علاوہ حکومت بھی عطا ہوئی تھی اور انہوں نے بزور شمشیر شرک کے زور کو توڑا تھا۔ پھر سیدنا ایوب کا ذکر کیا جنہوں نے اس حق و باطل کی کشمکش میں کمال صبر کا مظاہرہ کیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ( ۭاِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا 44؀) 38۔ ص :44) کا خطاب دیا اور سیدنا یوسف کے صبر کی تعریف رسول اللہ نے بھی فرمائی آپ سات سال بے قصور قید میں پڑے رہے پھر جب شاہ مصر کی طرف سے بلاوا آیا تو آپ نے قاصد سے کہا کہ پہلے بادشاہ سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے مجھ پر الزام لگایا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میں اتنی مدت قید میں پڑا ہوتا تو قاصد سے کچھ کہے بغیر ہی اس کے ساتھ ہو لیتا۔ (بخاری۔ کتاب الانبیائ۔ باب لقد کان فی یوسف۔۔) اللہ نے انہیں بھی حکومت عطا فرمائی تھی اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ سب سے مکرم کون ہے؟ آپ نے فرمایا ''یوسف جو خود بھی نبی تھے۔ ان کا باپ بھی نبی، دادا بھی نبی اور پڑدادا (سیدنا ابراہیم) بھی نبی تھے۔ اس کے بعد موسیٰ اور ہارون کا ذکر فرمایا۔ موسیٰ کلیم اللہ تھے اور انہی کی درخواست پر سیدنا ہارون کو نبوت ملی تھی تاکہ صدیوں سے بگڑے ہوئے بنی اسرائیل کو راہ راست پر لانے کے لیے ان کا ہاتھ بٹائیں۔ انہوں نے بھی ساری زندگی بنی اسرائیل کے ہاتھوں تکلیفیں ہی اٹھائیں۔ پھر ان کے بعد سیدنا زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ کا ذکر فرمایا۔ ان میں سے دو کو تو بنی اسرائیل نے دعوت حق دینے کی پاداش میں قتل کروا دیا تھا اور تیسرے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلیب پر لٹکوانے کی کوشش کی۔ پھر سیدنا الیاس، اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کا ذکر فرمایا پھر سب انبیاء کے متعلق ایک یکساں تبصرہ فرمایا۔ یہ سب لوگ صالح تھے اور اپنے اپنے وقت میں تمام اقوام عالم اور افراد سے افضل تھے اس لیے کہ انہوں نے شرک کے خلاف جہاد کیا اور توحید کا بول بالا کرنے کے لیے اور دعوت حق کی خاطر تکلیفیں اٹھائی تھیں۔