سورة المآئدہ - آیت 77

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِن قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! تم لوگ اپنے دین میں ناحق غلو (104) نہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو، جو اس سے پہلے خود گمراہ ہوگئے اور بہتوں کو گمراہ کیا، اور راہ راست سے بھٹک گئے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٢٣] فلسفہ گمراہی؟ یہ لوگ وہی یونانی فلاسفر ہیں جن کے افکار و نظریات سے متاثر ہو کر عیسائیوں کے علماء و مشائخ نے چوتھی صدی عیسوی میں تثلیث کا عقیدہ ایجاد کیا۔ پھر حکومت کی سرپرستی کی بنا پر اس عقیدہ کو فروغ حاصل ہوگیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فلاسفر قسم کے لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ مسلمانوں میں غلو کی مثالوں کے لیے (دیکھئے سورۃ فرقان کا حاشیہ نمبر ٢) اور سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : بال کی کھال اتارنے والے (فرقہ پرستی کی بنا پر) تباہ ہوئے۔ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ (مسلم۔ کتاب العلم۔ باب النہی عن اتباع متشابہ القرآن)