سورة النسآء - آیت 163

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

بے شک ہم نے آپ پر وحی (151) اتاری ہے، جیسے نوح اور ان کے بعد کے دوسرے انبیاء پر اتاری تھی، اور جیسے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان پر وحی اتاری تھی، اور ہم نے داود کو زبور دیا تھا

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٢١٦] اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ آپ پر وحی آنے کا طریق کار وہی تھا جو دوسرے انبیاء کے لیے تھا۔ اور یہ طریق کار سیدہ عائشہ (رض) کی زبان سے سنئے : ١۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پہلے جو وحی آپ پر شروع ہوئی وہ پاکیزہ خواب تھے۔ سوتے میں آپ جو خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح واضح ہوتا۔ پھر آپ کو تنہائی پسند آنے لگی اور آپ غار حرا میں اکیلے رہنے لگے مسلسل کئی راتیں وہاں رہ کر عبادت کرتے۔ پھر جب توشہ ختم ہوجاتا تو سیدہ خدیجہ کے پاس لوٹ کر آتے اور اتنا توشہ اور لے جاتے۔ آپ اسی حال میں غار حرا میں تھے کہ آپ کے پاس فرشتہ آیا۔ جس نے کہا ''اقرأ '' آپ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ''میں پڑھا لکھا نہیں۔۔ (آگے تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ علق) ٢۔ وحی کے مختلف طریقے :۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حارث بن ہشام نے آپ سے پوچھا ''یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟'' آپ نے فرمایا ''کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی جھنکار۔ اور یہ وحی مجھ پر سخت ناگوار ہوتی ہے پھر جب فرشتے کی کہی ہوئی بات مجھے یاد رہ جاتی ہے تو یہ موقوف ہوجاتی ہے اور کبھی فرشتہ مرد کی صورت میں میرے پاس آتا ہے، مجھ سے بات کرتا ہے تو میں اس کی کہی ہوئی بات یاد کرلیتا ہوں۔'' سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ جب سخت سردی کے دن میں آپ پر وحی اترتی، پھر جب موقوف ہوتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ نکلتا۔ (بخاری، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ پر جو وحی کی جاتی ہے اس کے مضامین وہی کچھ ہیں جو سابقہ انبیاء کو وحی کیے جاتے رہے ہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص آج بھی تورات اور انجیل کا بنظر غائر مطالعہ کرے جن میں تحریف بھی ہوچکی ہے اور بہت سے الحاقی مضامین بھی ان میں شامل ہوچکے ہیں۔ تاہم بے شمار مقامات ایسے بھی آ جاتے ہیں جن سے ایک عالم شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان تمام کتب سماویہ کا سرچشمہ ایک ہی ہے۔ [٢١٧] یہود زبور کو وحی الہٰی تسلیم کرتے ہیں حالانکہ وہ الواح تورات کی طرح یکبارگی نازل نہیں ہوئی تھی۔ یہاں یہود کے لیے زبور کا ذکر بالخصوص اس لیے آیا ہے کہ تم اگر یکبارگی نازل ہونے کے باوجود اسے وحی الہی مانتے ہو تو آخر قرآن کو وحی الہی ماننے سے کیا چیز مانع ہے۔ یہ دراصل یہود کے مذکورہ مطالبہ کا ہی جواب ہے۔