سورة البقرة - آیت 55

وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور جب تم نے موسیٰ سے کہا کہ ہم تو تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے، جب تک کہ اللہ کو سامنے نہ دیکھ (١٠٨) لیں، پس دیکھتے ہی دیکھتے کڑک اور گرج والی آگ نے تمہیں پکڑ لیا

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٧١] یہ بنی اسرائیل کے لوگ کچھ ایسے بدنہاد واقع ہوئے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر بھی اعتبار نہیں کرتے تھے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) تورات لے کر کوہ طور سے واپس لوٹے اور قوم کے سامنے کتاب پیش کی تو کہنے لگے۔ ہمیں یہ کیسے معلوم ہو کہ یہ کتاب واقعی منزل من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ فی الواقع آپ سے ہم کلام ہوا تھا۔ اس صورت حال سے موسیٰ (علیہ السلام) سخت پریشان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا کہ ستر آدمیوں کو بھی اپنے ساتھ طور پہاڑ پر لے آؤ۔ چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ستر آدمی منتخب کئے اور انہیں اپنے ہمراہ طور پر لے گئے کہ وہ خود بقائمی ہوش و حواس کلام الٰہی کو سن لیں۔ پھر جب انہوں نے کلام الٰہی سن لیا تو کہنے لگے : موسیٰ (علیہ السلام) پردے میں سننے کا ہمیں کچھ اعتبار نہیں اور ہم تو جب تک اللہ کو صاف صاف دیکھ نہ لیں، تمہاری بات پر اعتبار نہیں کریں گے۔'' منتخب ستر آدمیوں کی موت اور دوبارہ زندگی :۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ ان کا یہ مطالبہ ناقابل عمل اور انتہائی جہالت پر مبنی تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب خود بھی اللہ کی تجلی کی تاب نہ لا سکے اور بے ہوش ہو کر گر گئے تھے، اور پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوگیا تھا۔ تو بھلا یہ کس کھیت کی مولی تھے۔ ان کے اس مطالبہ پر ان پر بجلی گری شاید یہ بھی اللہ کی تجلی ہی کی کوئی صورت ہو) اور آن کی آن میں انہیں بھسم کر ڈالا۔