سورة البينة - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، بے حد رحم کرنے والا ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١] سیدناانس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی بن کعب (جو نہایت خوش الحان قاری تھے) سے فرمایا کہ :''اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں (بینۃ) کی سورت پڑھ کر سناؤں'' ابی بن کعب کہنے لگے :''کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر فرمایا ؟'' آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :''ہاں'' پھر ابی بن کعب رضی اللہ نے کہا ::''کیا اللہ تعالیٰ کے سامنے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے، میرا ذکر آیا ؟'' آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ''یہ سن کر ابی کی آنکھوں سے (خوشی کے) آنسو بہنے لگے۔ قتادہ کہتے ہیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں یہ سورت سنائی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)