سورة النازعات - آیت 10

يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

کفار کہتے ہیں کیا ہم واقعی (زندہ کر کے) پہلی حالت کو لوٹا (٤) دئیے جائیں گے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٨] حافرہ کا لغوی معنی :۔ الحَافِرَۃَ: حفر بمعنی گڑھا کھودنا اور حفرۃ بمعنی گڑھا بھی اور قبر بھی۔ اور حافرۃ بمعنی کھودی ہوئی زمین بھی اور ابتدائی حالت بھی اور ردّ فی الحافرۃ بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی جہاں سے چلا تھا وہیں واپس جانے والا۔ بقول شاعر : پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، یعنی کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ ہم قبر کے گڑھے میں پہنچ کر کیا پھر الٹے پاؤں زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے؟ ہماری گلی سڑی ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑجائے، یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔