سورة الإنسان - آیت 7

يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اللہ کے وہ بندے اپنی نذریں (٥) پوری کرتے ہیں، اور روز قیامت سے ڈرتے ہیں جس کا شر پھیل جانے والا ہوگا

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٨] اہل جنت کی چند صفات :۔ اب ان کامیاب ہونے والے نیک لوگوں کی چند صفات بیان کی جارہی ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نذریں پوری کرتے ہیں۔ نذر ایسے عہد کو کہا جاتا ہے جو انسان خود اپنے اوپر واجب قرار دے لیتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص اپنے واجب کردہ عہد کو پورا کرنے کا اس قدر خیال رکھتا ہے وہ اللہ کے عہد کو پورا کرنے کا بدرجہ اولیٰ خیال رکھے گا۔ [٩] مُسْتَطِیْرٌ (مادہ ط ی ر) بمعنی چارسو پھیلی ہوئی آفت۔ پوری کی پوری فضا کو متاثر کرنے والی تکلیف اور مصیبت۔ جب سورج بالکل زمین کے قریب لے آیا جائے گا اور حرارت اور گھبراہٹ کے مارے لوگوں کا برا حال ہوگا۔ اس دن کے شر سے وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو پہلے ہی اس دن کے شر سے ڈر کر اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے ہوں گے۔