سورة البقرة - آیت 48

وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور اس دن سے ڈرو (١٠٢) جب کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا، اور نہ کسی کی طرف سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی، اور نہ ہی کوئی معاوضہ لیا جائے گا، اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٦٧] سفارش پر تکیہ کرنا نری بے وقوفی ہے :۔ ان کے اسی غلط عقیدہ کا اس آیت میں جواب دیا گیا ہے، کہ عذاب سے نجات کی جو چار صورتیں ممکن ہیں ان میں سے کوئی بھی تمہارے کام نہ آسکے گی۔ یعنی کوئی شخص دوسرے کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہ ہوگا، نہ کسی کی سفارش کام آئے گی، نہ وہ فدیہ دے کر چھوٹ سکے گا اور نہ ہی اللہ کے مقابلہ میں وہاں اس کا کوئی حامی و مددگار ہوگا۔ لہذا خوب سمجھ لو کہ محض انبیاء کی اولاد ہونے کی بنا پر تم کبھی اپنی کرتوتوں کی سزا سے بچ نہ سکو گے۔ یہ درست ہے کہ قیامت کے دن انبیاء اور صلحاء گنہگاروں کے لیے سفارش کریں گے لیکن اس سفارش کی شرائط ایسی ہیں کہ سفارش پر تکیہ کرنا مشکل ہے مثلاً یہ کہ سفارش وہی کرے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا، اور اتنی ہی کرسکے گا جتنی اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوگی، یا صرف اسی گناہ کے لیے سفارش کرسکے گا۔ جس کا اللہ کی طرف سے اذن ہوگا، اور صرف اسی شخص کے حق میں کرسکے گا جس کے حق میں سفارش کرنا منظور ہوگا۔