سورة الملك - آیت 29

قُلْ هُوَ الرَّحْمَٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

آپ کہہ دیجیے، وہ نہایت مہربان ہے، ہم اسی پر ایمان (17) لے آئے ہیں، اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں، تم عنقریب جان لو گے کہ کھلی گمراہی میں کون پڑا ہوا ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣٢] ہماری عاقبت بخیر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم رحمن پر صرف ایمان ہی نہیں لائے بلکہ اپنے تمام تر امور کا انجام اسی کے سپرد کر رکھا ہے اور اسی پر ہی ہمارا بھروسہ ہے پھر وہ آخر کیوں ہمیں اپنی نعمتوں سے سرفراز نہ کرے گا۔ اور تمہیں جلد ہی اس بات کا پتہ چل جائے گا کہ گمراہی کے راستہ پر ہم پڑے ہوئے ہیں یا تم ہو۔ یہاں ''جلد'' سے مراد کافروں پر کوئی دنیوی عذاب بھی ہوسکتا ہے۔ ان کی موت کا وقت بھی اور قیامت کا دن بھی۔