سورة الملك - آیت 1

تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

بے حساب برکتوں (١) والا ہے وہ (اللہ) جس کے ہاتھ میں (سارے جہان کی) بادشاہی ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٢] تبارک کا لغوی مفہوم :۔ تَبَارَکَ برکت کے معنی کسی چیز میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کا ثابت ہونا ہے (مفردات) یعنی جو کام کیا جائے اس میں متوقع زیادہ سے زیادہ فائدہ ہونے کا نام برکت ہے۔ بشرطیکہ یہ کام خیر کا پہلو رکھتا ہو اور جس چیز میں یہ خیر کا پہلو بارآور ثابت ہو وہ مبارک ہے۔ اور تبرک کا لفظ اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور صرف ان خیر کے کاموں کے لیے آتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہیں۔ اس آیت میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ہر ایک چیز کو جس بہتر مقصد کے لیے پیدا فرمایا تھا وہ چونکہ بدرجہ اتم وہ مقصد پورا کر رہی ہے لہذا اللہ کی ذات تبارک یعنی بابرکت ہوئی۔ [٣] الْمُلْکُ یعنی کائنات کی ہر چیز پر مکمل بادشاہت، حکومت اور اختیار۔ اور ایسی قدرت کہ کوئی چیزبھی اللہ کے حکم کے سامنے دم نہیں مار سکتی۔