سورة البقرة - آیت 45

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور مدد لو صبر (٩٨) اور نماز کے ذریعہ۔ اور یہ (نماز) بہت بھاری (٩٩) ہوتی ہے، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٦٤] پریشانیوں اور مصائب کا علاج :۔ مصیبت اور پریشانی کی حالت میں صبر اور نماز کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اسی قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہوجاتی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہاں صبر سے روزہ بھی مراد لیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو خود بھی نماز میں مشغول ہوتے اور اپنے اہل بیت کو بھی اس کی دعوت دیتے تھے۔ اور صبر کسے کہتے ہیں یہ بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنیے۔ صبر کی تعریف :۔ انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک عورت پر گزر ہوا جو ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فرمایا ''اللہ سے ڈرو اور صبر کرو۔ '' وہ کہنے لگی۔ ''جاؤ اپنا کام کرو تمہیں مجھ جیسی مصیبت تو پیش نہیں آئی۔'' وہ عورت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچانتی نہ تھی۔ اسے لوگوں نے بتایا کہ وہ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ چنانچہ وہ آپ کے دروازے پر حاضر ہوئی۔ وہاں کوئی دربان موجود نہ تھا۔ وہ اندر جا کر کہنے لگی۔ ''میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا (میں صبر کرتی ہوں) آپ نے فرمایا : صبر تو اس وقت کرنا چاہیے جب صدمہ شروع ہو۔ '' (بخاری کتاب الجنائز باب زیارۃ القبور)