سورة الواقعة - آیت 73

نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِّلْمُقْوِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

ہم نے اسے باعث نصیحت اور صحراء میں سفر کرنے والوں کے لئے فائدے کی چیز بنایا ہے

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٣٤] مقوین کا لغوی مفہوم :۔ مُقْوِیْنٌ۔ القوٰی بمعنی بھوک اور باتَ الْقَوٰی بمعنی بھوکا رہ کر رات گزاری اور القاویۃ بمعنی کم بارش کا سال اور تقاوٰی بمعنی بارش کی قلت یا افراط جس سے فصل تباہ ہوجائے اور قحط نمودار ہوجائے۔ اور تقاوی قرضے وہ ہوتے ہیں جو ایسے قحط کے سال میں حکومت زمینداروں کو بالا قساط ادائیگی کی شرط پر دیتی ہے اور تقاوی بمعنی بھوکے رات بسر کرنا اور قوت لایموت بمعنی خوراک کی اتنی کم مقدار جس سے انسان بس زندہ رہ سکے اور مقوین بمعنی قوت کی احتیاج میں سفر کرتے پھرتے لوگ۔ خانہ بدوش لوگ جو رزق کی تلاش میں ادھرادھر منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ درختوں کی لکڑیوں سے عارضی مکان بھی کھڑے کرسکتے ہیں۔ ایندھن بیچ کر اپنی دوسری ضروریات بھی پوری کرسکتے ہیں۔