سورة الواقعة - آیت 65

لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اگر ہم چاہتے تو اسے بھس بنا دیتے، پھر تم حسرت ہی کرتے رہ جاتے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣١] بیج پر ممکنہ آفات :۔ اس کی بھی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً جس زمین میں بیج ڈالا گیا اس میں اللہ شور پیدا کردے اور نسل کمزور اور زرد پیدا ہو اور پوری طرح بار آور نہ ہو یا فصل اگنے کے بعد اسے کیڑا لگ جائے یا کسی ارضی یا سماوی آفت مثلاً کہر، شدید بارش وغیرہ سے فصل کی نشوونما رک جائے اور لہلہاتے کھیت زرد پڑجائیں۔ تو کیا تم میں سے کسی کو یہ اختیار ہے کہ فصل کو ان مصیبتوں سے بچا سکے؟ اور اگر تم خود بھی اللہ تعالیٰ کی ہی مہربانی سے پیدا ہوگئے اور اللہ تعالیٰ ہی کی مہربانی سے تمہیں کھانے کو ملتا ہے تو پھر اس کے سامنے تمہاری اکڑ اور سرتابی کا مطلب؟ اس صورت میں تم باتیں ہی بناتے رہ جاتے ہو کہ ہمارا تو بیج بھی ضائع ہوگیا اور محنت بھی ضائع ہوئی اور آئندہ کھانے کو بھی کچھ نہ ملا تو ہم تو مارے گئے۔ یہ بات تمہیں پھر بھی نصیب نہیں ہوتی کہ تم اللہ کی طرف رجوع کرو اور اسے اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ سمجھو۔