سورة الواقعة - آیت 37

عُرُبًا أَتْرَابًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

انہیں اپنے شوہروں کو محبت دینے والی اور ان کی ہم عمر بنایا ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٢٠] عرباً اتراباً کا لغوی مفہوم :۔ عُرُبًا عُرُوْبٌ کی جمع ہے اور عروب کے معنی ہیں اپنے خاوند سے محبت کرنے والی عورت اور بمعنی بہت ہنسنے ہنسانے والی اور خوش ذوق اور ناز و ادا سے اپنے خاوند کو لبھانے والی عورت۔ [٢١] أتْرَابٌ۔ تُرَابٌ بمعنی مٹی اور تارَب ایک ساتھ مٹی میں کھیلنا۔ ہم عمر ہونا۔ دوست ہونا۔ اور ترب بمعنی ہم عصر، ہم عمر ساتھی اور ترب کی مونث تربۃ ہے اور ترب اور تربہ دونوں کی جمع اتراب آتی ہے۔ لیکن اتراب کا لفظ عموماً عورتوں کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ گویا اتراب سے مراد ایسی دوست اور ہم عمر عورتیں ہیں جن کے مزاج میں بھی پوری ہم آہنگی پائی جاتی ہو۔ یہ عورتیں آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی اور نوجوان ہی رہیں گی اور اپنے خاوندوں سے بھی عمر کا تناسب برابر قائم رہے گا۔