سورة آل عمران - آیت 200

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اے ایمان والو ! صبر سے کام لو، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرو، اور جہاد کے لیے مستعد رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ فلاح پاؤ

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٢٠١] (صَابِرُوْا) کے دو معنے ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر صبر کرو اور دوسرے یہ کہ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہو۔ یعنی جو اسلام کی راہ میں مشکلات آنے پر خود بھی ثابت قدم رہیں اور دوسروں کو بھی ایسی ہی تلقین کرتے اور ان کی ڈھارس بندھاتے رہیں۔ [٢٠٢] اسی طرح (رَابِطُوْا) میں جہاد کے لیے تیار رہنا، کسی چوکی پر پہرہ دینا، مورچے پر رہنا اور اپنی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت کرنا سب کچھ شامل ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ''اللہ کی راہ میں ایک دن مورچے پر رہنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور تم میں کسی کو ایک کوڑا رکھنے کے برابر جنت میں جگہ مل جائے تو وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور شام کو جو آدمی اللہ کی راہ (جہاد) میں چلے یا صبح کو تو وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے'' (بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ ) نیز آپ نے فرمایا : ''ایک دن رات پہرہ دینا، ایک ماہ کے روزے اور قیام سے بہتر ہے۔ اگر وہ پہرہ دیتے ہوئے شہید ہوگیا تو اس کا یہ عمل برابر جاری رہے گا اور اس کو اس پر اجر دیا جائے گا اور وہ فتنوں سے امن میں رہے گا'' (مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عزوجل) بعض فقہاء رباط کو جہاد فی سبیل اللہ سے بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جہاد غیر مسلموں سے کیا جاتا ہے اور رباط خود مسلمانوں کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے۔ مدنی دور کے ابتدائی سالوں میں مدینہ کے ارد گرد بسنے والے مشرک قبائل آپس میں گٹھ جوڑ کرکے مدینہ پر حملہ کی سازشیں کرتے رہتے تھے۔ آپ ان کے حالات سے ہر لحظہ باخبر رہتے اور جب محسوس کرتے کہ مدینہ کی طرف کوئی بری نظروں سے دیکھ رہا ہے تو فوراً خود وہاں پہنچ جاتے، یا سریہ بھیج دیتے تھے۔ صلح حدیبیہ سے پہلے اکثر ایسے واقعات پیش آتے رہے اور بسا اوقات یوں ہوا کہ دشمن اسلامی دستوں کی آمد کی خبر پاکر تتر بتر ہوجاتا تھا۔ ٩ ھ میں عرب کا بیشتر علاقہ اسلام کے زیر نگین آگیا تو شام کی سرحد پر عرب عیسائیوں نے جو قیصر روم کے زیراثر تھے۔ مسلمانوں کی سرحد پر اپنی افواج کو اکٹھا کرنا شروع کردیا۔ افواہ یہ گرم تھی کہ دو لاکھ عیسائی اس سرحد پر جمع ہورہے ہیں۔ غزوہ تبوک اسی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اسلامی لشکر کے پہنچنے سے پہلے ہی دشمن کا لشکر منتشر ہوگیا اور جنگ کی نوبت ہی نہ آئی۔ دور فاروقی میں جب اسلامی سلطنت کی سرحدیں بہت وسیع ہوگئیں تو سرحدوں پر فوجی چھاؤنیاں قائم کردی گئیں۔ جہاں ہر وقت فوج موجود رہتی تھی تاکہ دشمن کی نقل و حرکت کی بروقت سرکوبی کی جاسکے۔ اور بعض لوگوں نے رابِطُوْا سے باہمی روابط اور معاشرتی آداب کو ملحوظ رکھنا مراد لیا ہے۔ یعنی صلہ رحمی، رشتوں ناطوں کا پورا پورا لحاظ رکھو اور ہر شخص دوسرے کے حقوق و آداب کو ملحوظ رکھ کر معاشرہ میں ہمدردی، مروت اور اخوت کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ دوسروں سے احسان اور بہتر سلوک کرنا وغیرہ سب باتیں اس میں شامل ہیں۔ سورۃ آل عمران میں چونکہ غزوہ احد کا تفصیلی بیان آیا ہے اور اسکا بہت سا حصہ اسی غزوہ کے حالات پر مشتمل ہے اور یہ آخری آیت گویا اس سورۃ کا تتمہ اور لب لباب ہے جس میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں ہر وقت تیار رہنے کے ضمن میں جامع ہدایات دی گئی ہیں۔