سورة الطور - آیت 40

أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اے میرے نبی ! کیا آپ ان سے (دعوت و تبلیغ کا) کوئی معاوضہ (٢١) طلب کرتے ہیں جس کے بوجھ تلے وہ دبے جا رہے ہیں

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣٤] آپ کی مخالفت کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ آپ ان سے معاوضہ اور نذریں نیازیں طلب کرتے۔ جیسے عموماً مذہب کے ٹھیکیدار حضرات اپنے معتقدین اور مریدوں سے وصول کرتے اور اپنی دکانیں خوب چمکا لیتے ہیں۔ یہاں یہ معاملہ بھی نہیں کہ آپ ان سے نذرانے طلب کریں اور وہ اسے بوجھ سمجھ کر آپ سے پرے ہٹ جائیں۔ حالانکہ آپ کا معاملہ مذہبی ٹھیکیداروں کے بالکل برعکس تھا۔ آپ نے اپنا ذاتی سرمایا دین کے کاموں میں صرف کر ڈالا تھا۔ دین کی تبلیغ کی وجہ سے آپ کا کاروبار ٹھپ ہوچکا تھا۔ پھر آپ اس تبلیغ کے کام کا کسی صورت میں معاوضہ بھی نہیں لیتے تھے۔ بلکہ بالکل بے لوث اور بے غرض ہو کر انسانیت کی خدمت کر رہے تھے۔