سورة آل عمران - آیت 143

وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

تم لوگ موت کو سامنے دیکھنے سے پہلے اس کی تمنا کرتے تھے، پس تم لوگوں نے اب اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٣٠] اس آیت میں غزوہ احد کا ایک دوسرا منظر پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ مسلمان ابتداًء شکست سے دوچار ہوئے تھے جو صحابہ (رض) غزوہ بدر میں شرکت سے محروم رہ گئے تھے وہ شہدائے بدر کے فضائل سن سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ اگر پھر اللہ نے ایسا موقع فراہم کیا تو ہم اللہ کی راہ میں جان دے کر شہادت کے مراتب حاصل کریں گے۔ مشورہ کے وقت ایسے ہی صحابہ (رض) نے زور دیا تھا کہ جنگ مدینہ سے باہر کھلے میدان میں لڑنا چاہئے، لیکن جب شکست ہوئی تو ایسے صحابہ (رض) میں سے بھی کچھ لوگ بھاگ نکلے۔ اس آیت میں انہیں لوگوں سے خطاب ہے کہ جو چیز تم چاہتے تھے وہی تمہیں پیش آئی ہے۔ اب پیچھے ہٹنے کا کیا مطلب ہے؟ اسی سلسلہ میں ایک حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا مت کرو۔ اور جب ایسا موقع آجائے تو پھر ثابت قدمی دکھاؤ۔ (بخاری، کتاب التمنی، باب کراھیہ تمنی لقاء العدو نیز کتاب الجہاد، باب لاتمنوا لقاء العدو)