سورة آل عمران - آیت 118

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اے ایمان والو ! تم غیر مسلموں کو اپنا رازدار (83) نہ بناؤ، وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے، وہ تو چاہتے ہیں کہ تمہیں مشقت و پریشانی لاحق ہو، ان کی زبانوں سے دشمنی ظاہر ہوچکی ہے، اور ان کے سینوں نے جو چھپا رکھا ہے وہ تو زیادہ بڑی عداوت ہے، اگر تم عقل والے ہو تو ہم نے تمہارے لیے آیتوں کو بیان کردیا ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٠٦] یہ خطاب دراصل انہیں انصار مدینہ سے ہے۔ ان کے دو بڑے قبیلے اوس و خزرج مدینہ میں آباد تھے۔ اسلام سے پہلے ان قبائل کی آپس میں ٹھنی رہتی تھی اور مدینہ کے یہودی بھی تین قبائل میں منقسم تھے۔ یہودیوں کا کام یہ تھا کہ ان کا ایک قبیلہ اوس کا حلیف بن جاتا اور دوسرا خزرج کا اور اس طرح اوس و خزرج کو آپس میں لڑاتے رہتے تھے اور اس طرح کئی طرح کے مفادات حاصل کرتے تھے۔ مثلاً ایک یہ کہ ان کے ہتھیار فروخت ہوجاتے تھے۔ دوسرے یہ کہ اپنی قلت تعداد کے باوجود انصار مدینہ پر اپنی بالا دستی قائم رکھتے اور ان کی معیشت و سیاست پر چھائے ہوئے تھے۔ جب اوس و خزرج کے قبیلے مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد بھی وہ یہودیوں کے ساتھ وہی پرانے تعلقات نباہتے رہے اور اپنے سابق یہودی دوستوں سے اسی سابقہ ئمحبت و خلوص سے ملتے رہے۔ لیکن یہودیوں کو آپ اور آپ کے مشن سے جو بغض و عناد تھا اس کی بنا پر وہ کسی مسلمان سے مخلصانہ محبت رکھنے کو تیار نہ تھے۔ انہوں نے منافقانہ روش اختیار کر رکھی تھی۔ ظاہر میں تو وہ انصار سے دوستی کا دم بھرتے تھے۔ مگر دل میں ان کے سخت دشمن بن چکے تھے۔ اس ظاہری دوستی سے وہ دو قسم کے فوائد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ایک یہ کہ کسی طرح مسلمانوں میں فتنہ و فساد پیدا کردیں جیسا کہ شماس بن قیس یہودی نے کیا بھی تھا اور دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے جماعتی راز ان کے دشمنوں تک پہنچائیں۔ انہی وجوہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کسی بھی غیر مسلم سے دوستی گانٹھنے اور اسے اپنا راز دار بنانے سے روک دیا اور یہود کے بغض و عناد کا تو یہ حال تھا کہ بسا اوقات ان کی زبان سے کوئی ایسی بات نکل جاتی تھی جو ان کی مسلمانوں سے گہری دشمنی کا پتا دے جاتی تھی اور حسد اور دشمنی کے بارے میں ان کی زبان قابو میں نہیں رہتی تھی۔ اور جو ان کے دلوں میں کدورت بھری ہوئی تھی وہ تو اس سے بہت بڑھ کر تھی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم سوچو تو ان کی دوستی میں تمہیں سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔ لہذا کافروں سے دوستی رکھنے سے بہرحال تمہیں اجتناب کرنا چاہئے۔