سورة الصافات - آیت 166

وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور بے شک ہم تمام تسبیح پڑھتے رہتے ہیں

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٩٤] اللہ اور جبرئیل کے درمیان نور کے ستر (٧٠) حجاب :۔ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور اپنا معبود قرار دیتے تھے۔ ان تین آیات میں فرشتوں کی زبان سے اصل حقیقت بیان کی گئی ہے۔ یعنی تمہارے اس شرکیہ عقیدہ کے مقابلہ میں فرشتوں کا اپنا بیان یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک فرشتہ کا ایک مقررہ درجہ اور مقام ہے جس سے آگے ہم بڑھ نہیں سکتے۔ چنانچہ ترمذی کی ایک روایت کے مطابق ایک دفعہ رسول اللہ نے سیدنا جبرئیل سے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟ تو جبرئیل نے جواب دیا کہ میرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نور کے ستر (٧٠) حجاب ہیں اگر میں اپنے مقام سے ذرا بھی آگے بڑھنے کی کوشش کروں تو جل جاؤں۔'' (ترمذی۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ باب بدء الخلق و ذکر الانبیائ) اور ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہم ہر وقت اللہ کی بارگاہ میں صف بستہ کھڑے تسبیح و تہلیل کرتے رہتے ہیں اور ہمہ وقت اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں۔