سورة الصافات - آیت 158

وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور مشرکین نے اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ (٣٤) ٹھہرایا ہے، حالانکہ جن یہ جانتے ہیں کہ وہ جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٩١] جنوں اور اللہ تعالیٰ میں سسرالی رشتہ :۔ مشرکین عرب سے جب پوچھا جاتا کہ اگر فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تو ان کی مائیں کون ہیں؟ تو وہ کہہ دیتے کہ ''جنوں کی عورتیں'' اس طرح گویا وہ ایک اور ظلم ڈھاتے تھے اور جنوں اور اللہ تعالیٰ میں دامادی اور سسرال کا رشتہ قائم کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یوں دیا کہ جن ایک مکلف مخلوق ہے۔ جو اپنے اعمال کی جوابدہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جائیں گے۔ پھر ان کی اکثریت جہنم میں جائے گی اور تم نے انہیں اللہ کا سسر بنا ڈالا ہے۔ تمہاری بے ہودگی کی کوئی انتہا ہے؟ کیا تم یہ گوارا کرتے ہو کہ اپنے داماد کو آگ میں جھونک دو یا جس کو تم آگ میں جھونکتے ہو اسے اپنا داماد بنانا گوارا کرسکتے ہو؟ آخر اللہ کے بارے میں تمہاری عقلوں میں اتنا فتور کیوں آجاتا ہے؟