سورة آل عمران - آیت 92

لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

تم لوگ بھلائی (67) ہرگز نہیں پاؤ گے، جب تک (اللہ کی راہ میں) وہ مال نہ خرچ کروگے جسے تم محبوب رکھتے ہو، اور تم جو کچھ خرچ کروگے، اللہ اسے خوب جانتا ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٨١] اگرچہ سابقہ مضمون یہود سے سے متعلق چل رہا ہے۔ تاہم اس آیت کا خطاب یہود، نصاریٰ، مسلمانوں اور سب بنی نوع انسان سے ہے اور مال سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس کے دل میں گھٹن سی پیدا ہونے لگتی ہے اور اگر کسی کے کہنے کہلانے پر مال خرچ کرنا ہی پڑے تو اس کا جی یہ چاہتا ہے کہ تھوڑا سا مال یا کوئی حقیر قسم کا مال دے کر چھوٹ جائے، جب کہ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ جب تم اللہ کی راہ میں ایسا مال خرچ نہ کرو گے جو تمہیں محبوب اور پسندیدہ ہے۔ اس وقت تک تم نیکی کی وسعتوں کو پا نہیں سکتے۔ اس آیت کا صحابہ کرام (رض) نے بہت اچھا اثر قبول کیا۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ : انصار میں حضرت ابو طلحہ (رض) کے سب سے زیادہ باغ تھے۔ ان میں سے بیرحاء کا باغ آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھا۔ یہ مسجد نبوی کے سامنے تھا۔ آپ اس باغ میں جایا کرتے تھے اور وہاں عمدہ اور شیریں پانی پیتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابو طلحہ (رض) نے رسول اکرم سے عرض کیا : ''میری کل جائداد سے بیرحاء کا باغ مجھے بہت پیارا ہے۔ میں اس باغ کو اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور اس سے ثواب اور اللہ کے ہاں ذخیرہ کی امید رکھتا ہوں'' آپ جہاں مناسب سمجھیں اسے استعمال کریں'' آپ نے فرمایا : ''بہت خوب! یہ مال تو بالآخر فنا ہونے والا ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ مال تو بہت نفع دینے والا ہے) اب تم ایسا کرو کہ اپنے غریب رشتہ داروں میں بانٹ دو۔ '' ابو طلحہ (رض) کہنے لگے! بہت خوب! یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ایسے ہی کرتا ہوں۔ چنانچہ یہ باغ حضرت ابو طلحہ (رض) نے اپنے اقارب اور چچا زاد بھائیوں میں بانٹ دیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر) نیز کتاب الزکوٰۃ، باب الزکوٰۃ علی الاقارب) اور بالخصوص اس آیت کے مخاطب یہود ہیں۔ کیونکہ اس آیت سے پہلے اور بعد والی آیات میں انہیں سے خطاب کیا جارہا ہے۔ سود خوری اور حرام خوری کی وجہ سے بخل ان کی طبیعتوں میں رچ بس گیا تھا۔ مذہبی تقدس اور پہچان کے لیے انہوں نے چند ظاہری علامت کو ہی معیار بنا رکھا تھا اسی تقدس کے پردہ میں ان کی تمام تر قباحتیں چھپ جاتی تھیں۔ جن میں سے ایک قباحت بخل اور مال سے شدید محبت تھی۔