سورة الصافات - آیت 25

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ آج کے دن ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ہو

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٥] مطیع اور مطاع کا قیامت کے دن مکالمہ :۔ ایسے عابد اور معبود جنہیں جہنم میں داخل کردینے کا حکم دیا جائے گا۔ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ انہیں ذرا روک لو پہلے ان سے ایک بات تو پوچھ لیں۔ ان مجرموں میں ہر قسم کے عابد اور ہر قسم کے معبود ہوں گے۔ مشرکین اور ان کے معبودوں کا تو پہلے ذکر ہوچکا۔ ان میں چودھری اور رئیس بھی ہوں گے اور ان کے پیروکار بھی، سیاسی لیڈر بھی اور ان کی پارٹی کے لوگ بھی۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والے اور خدائی کو منوانے والے بھی اور ماننے والے بھی۔ گورو جی اور ان کے چیلے چانٹے بھی، اعلیٰ حضرت بھی اور ان کی شفاعت پر بھروسہ کرنے والے مریدان باصفا بھی۔ اور یہ سب جوڑے اس دن ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہونگے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ آج تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ آج تم ایک دوسرے سے بے تعلق کیوں ہوگئے ہو۔ اور وہ تمہاری شیخیاں اور تمہارے بلند بانگ دعوے کہاں گئے' دنیا میں جو تم نے آپس میں مل کر جتھے بنا رکھے تھے یا ایک دوسرے کی مدد کے دعوٰے کیا کرتے تھے۔ آج وہ تمہارے وعدے کہاں گئے انہیں پورا کیوں نہیں کرتے؟