سورة آل عمران - آیت 73

وَلَا تُؤْمِنُوا إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ قُلْ إِنَّ الْهُدَىٰ هُدَى اللَّهِ أَن يُؤْتَىٰ أَحَدٌ مِّثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَاجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ ۗ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور تم لوگ صرف اسی پر اعتماد (56) کرو جو تمہارے دین کی اتباع کرتا ہے، آپ کہہ دیجئے کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے، (اور یہ ہرگز نہ مانو) کہ کسی کو ویسا ہی دین دیا جائے گا جیسا تمہیں دیا گیا ہے، یا وہ لوگ تمہارے رب کے پاس تم سے جھگڑیں گے، آپ کہہ دیجئے کہ فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے، عطا کرتا ہے، اور اللہ بڑا وسعت والا اور بڑا جاننے والا ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٦٤] چوتھی کوشش ان کی یہ تھی کہ وہ ایک دوسرے کو اس بات کی تاکید کرتے تھے کہ خبردار اپنے دین پر پکے رہنا، دوسرے کسی مذہب والے کی پیروی نہ کرنا، تم مسلمانوں کی باتیں سنو مگر قبول وہی کرو جو تمہارے اپنے مذہب کے مطابق ہوں۔ اور خبردار! انہیں تورات کی کوئی ایسی بات بھی نہ بتلانا جو تمہارے اپنے خلاف جاتی ہو۔ ورنہ وہ قیامت کو اللہ کے حضور یہ کہہ دیں گے کہ ان باتوں کا تو یہ یہود خود بھی اقرار کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں اپنے پیارے پیغمبر سے فرمایا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ تم جو ہدایت کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہو تو یہ تو بتلاؤ کہ یہ ہدایت تمہیں ملی کہاں سے ہے؟ اور اگر اللہ ہی کی طرف سے ملی ہے تو کیا دوسروں کو ایسی ہی ہدایت کے احکام نہیں بتلاسکتا۔ بالخصوص اس صورت میں کہ تم اللہ کے احکام کے علی الرغم ہر قسم کی بددیانتی پر اتر آئے ہو؟