سورة آل عمران - آیت 72

وَقَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور اہل کتاب کے ایک گروہ (55) نے کہا کہ ایمان والوں پر جو کچھ اترا ہے اس پر تم لوگ دن چڑھے ایمان لے آؤ، اور شام کے وقت انکار کردو، شاید کہ وہ لوگ اپنے (دین) سے پھر جائیں

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٦٣]یہود کی تیسری چال‘ایمان لاکر مرتد ہوجانا:۔ اسی سلسلہ میں ایک سازش یہ تیار کی گئی کہ یہود کے چند افراد اعلانیہ طور پر مسلمان ہوجائیں۔ پھر چند دنوں بعد یا اسی دن اسلام سے مرتد ہوجائیں۔ اس سازش کا پس منظر یہ تھا کہ یہود عرب بھر میں علوم شرعیہ کے عالم مشہور تھے، حتیٰ کہ یہود اپنے سوا دوسرے سب لوگوں کو امی (ناخواندہ لوگ) کہہ کر پکارتے تھے۔ یہودیوں کے مسلمان ہونے کے بعد پھر سے مرتد ہونے سے عام لوگوں میں خود بخود تاثر پیدا ہوجائے گا کہ اہل علم نے جب اس دین اسلام کا قریب ہو کر مطالعہ کیا تو انہیں ضرور دال میں کچھ کالا نظر آیا ہے۔ ورنہ ایک عالم آدمی کیسے گمراہی کو ترجیح دے سکتا ہے۔ یہ سازش ابھی پک ہی رہی تھی کہ اللہ نے اپنے نبی کے ذریعہ مسلمانوں کو اس سے متنبہ کردیا اور ان کی یہ باطنی خباثت وہیں ختم ہو کر رہ گئی۔