سورة سبأ - آیت 21

وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِالْآخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِي شَكٍّ ۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور اسے ان لوگوں پر کوئی تسلط (١٦) حاصل نہیں تھا، لیکن ہم نے ہی جاننا چاہا کہ کون آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور کون اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہے، اور آپ کا رب ہر چیز پر نگراں ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[ ٣٤] ابلیس کے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں کہ وہ زبردستی لوگوں کو اللہ کی راہ سے اپنی راہ پر ڈال دے۔ وہ صرف یہی اختیار رکھتا ہے کہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈال سکے۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرسکتا اور شیطان کے انسان کو گمراہ کرنے کے سب سے زیادہ موثر تین طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ انسان کو شرک کی نئی سے نئی راہیں بڑے خوبصورت انداز میں پیش کردیتا ہے۔ اور دوسرے اسے عقیدہ آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کردیتا ہے۔ یا عقیدہ آخرت میں ایسے جزوی عقائد شامل کردیتا ہے کہ عقیدہ آخرت کے اصل مقصد ہی فوت ہوجائے اور عقیدہ آخرت کا صحیح مفہوم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ پر قائم رکھ سکتا ہے اور اس کا تیسرا وار اس کے لباس پر ہوتا ہے اور وہ لوگوں کو عریانی، بے حیائی اور فحاشی کی راہیں خوبصورت انداز میں سجھاتا رہتا ہے۔ [ ٣٥] یعنی اللہ یہ بات بھی خوب جانتا ہے کہ اس نے ابلیس کو کس حد تک لوگوں کو گمراہ کرنے کا اختیار دے رکھا ہے اور وہ یہ خوب جانتا ہے کہ ابلیس صرف ان لوگوں کو ہی گمراہ کرسکتا ہے جو پہلے سے شیطان کے اشارے کے منتظر بیٹھے ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ اللہ اور روز آخرت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ اس کے چکمے میں نہیں آتے اور کبھی آبھی جائیں تو انھیں جلد ہی اس بات کا احساس ہوجاتا ہے اور فوراً پھر اللہ کی طرف پلٹ آتے ہیں۔