سورة الأحزاب - آیت 29

وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور اگر تمہیں اللہ اور اس کا رسول چاہئے اور آخرت کی بھلائی چاہئے، تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیک عمل کرنے والیوں کے لئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[ ٤١] آیت تخییر :۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکمل اختیار دیا تھا کہ آپ چاہیں تو ایسی اجتماعی طور پر خرچ کے اضافہ کا مطالبہ کرنے اور اس طرح دباؤ ڈالنے والی بیویوں کو طلاق دے کر فارغ کردیں اور چاہیں تو اپنے پاس رکھیں۔ بشرطیکہ آئندہ وہ آپ کو اس سلسلہ میں پریشان نہ کریں۔ آپ نے ایک ماہ کے ایلاء (بیویوں سے الگ رہنے) کا فیصلہ کیا تھا۔ انتیس دن گزرنے کے بعد آپ مسجد کے بالا خانہ سے واپس اپنے گھر تشریف لائے سب سے پہلے سیدہ عائشہ (رض) ہی کے گھر آئے۔ پھر جس طرح آپ نے اس اختیار کو استعمال کیا وہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : خ بیویوں کا جواب :۔ ١۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ : جب آپ کو حکم ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیجئے (خواہ وہ آپ کے ساتھ رہنا چاہیں یا طلاق لے لیں) تو آپ نے سب سے پہلے مجھ سے پوچھا اور فرمایا : عائشہ (رض) ! میں تمہیں ایک بات کہتا ہوں مگر تم اس میں جلدی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کرکے جواب دینا۔ اور آپ یہ بات خوب جانتے تھے کہ میرے والدین آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ دیں گے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : (یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا 28؀) 33۔ الأحزاب :28) (تک آپ نے پڑھا) میں نے کہا : ''میں اس معاملہ میں اپنے والدین سے کیا مشورہ کروں گی میں تو خود (بہرحال) اللہ، اس کے رسول اور آخرت کی بھلائی چاہتی ہوں'' پھر آپ نے یہی بات دوسری بیویوں سے پوچھی تو سب نے وہی جواب دیا جو میں نے دیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ : میں نے آپ سے کہا کہ آپ نے تو ایک ماہ کا کہا تھا اور آج انتیس دن ہوئے ہیں۔ آپ نے اپنی انگلیوں کے اشارے سے بتایا کہ مہینہ تیس دن کا بھی ہوتا ہے اور انتیس دن کا بھی۔ (گویا وہ مہینہ انتیس دن کا تھا) (بخاری۔ کتاب الصوم۔ باب قول النبی اذا رأیتم الہلال فصوموا، مسلم کتاب الصیام۔ باب وجوب صوم رمضان لرؤیۃ الھلال۔۔)