سورة السجدة - آیت 15

إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ۩

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

بے شک ہماری آیتوں پر وہ لوگ ایمان (13) لاتے ہیں جنہیں جب ان آیتوں کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح و تحمید کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ہیں

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[ ١٧] ایمان لانے والوں کی صفات انکار کرنے والوں سے بالکل جداگانہ ہوتی ہیں۔ ان کے دلوں میں ضد، ہٹ دھرمی اور عناد نہیں ہوتا، ان کی طبیعتیں اتنی سلیم ہوتی ہیں کہ حق بات کو قبول کرنے پر فوراً آمادہ ہوجاتی ہیں۔ ان میں تکبر اور غرور نام کو نہیں ہوتا۔ بلکہ انھیں جب اللہ تعالیٰ کے عجائبات اور کارنامے بتلائے جاتے ہیں تو اللہ کی عظمت سے ان کے دل فوراً دہل جاتے ہیں وہ قبول حق پر فوراً آمادہ ہوجاتے ہیں پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور ان کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح و تقدیس جاری ہوجاتی ہے۔ اس آیت پر سجدہ ہے۔ اس کو پڑھنے اور سننے والوں کو یہاں سجدہ کرنا چاہئے تاکہ وہ بھی ان صفات میں شامل ہوجائیں جو اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کی بیان فرمائی ہیں۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں (الم تنزِیل السجدۃ) اور ( ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْـــًٔا مَّذْکُوْرًا ۝) 76۔ الإنسان :1) پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ باب ماجاء فی سجود القرآن و سنتہا)