سورة لقمان - آیت 27

وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور زمین میں جتنے درخت (٢٠) ہیں اگر وہ سب قلم بن جائیں اور سمندر روشنائی بن جائے اور اس کے بعد مزید سات سمندر اس کی مدد کریں تو بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے، بے شک اللہ زبردست، بڑا صاحب حکمت ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣٥] اللہ کے کلمات سے مراد اس کے تخلیقی کارنامے، اس کے عجائبات اور کرشمے اور اس کی خوبیاں ہیں۔ اور ان کے بے شمار پہلو ہیں۔ مثلاً انسان کے اندر کی دنیا کے عجائبات اور بیرونی دنیا کے عجائبات۔ انسان کی عقل اور علم ان دونوں میں کسی کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ اور جو کچھ وہ جانسکا ہے اسے بھی ضابطہ تحریر میں لانا ناممکن ہے اور نہ بیان کیا جاسکتا ہے۔ جہاں انسان کی عقل اور اس کا علم خود ہی ورطہ حیرت میں پڑجاتے اسے وہ لکھے گا کیا اور بیان کیا کرسکتا ہے۔ پھر یہ ایک نوع انسان ہی کی بات نہیں جو اربوں کی تعداد میں دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ حیوانات کی تقریباً دس لاکھ انواع ایسی ہیں جو انسان کے علم میں آچکی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی جسمانی ساخت اور نظام زیست دوسری تمام انواع سے الگ ہے۔ یہی حال نباتات اور جمادات اور سمندری مخلوق کا ہے پھر بہت سی ایسی مخلوق ہے جو انسان کے علم میں آہی نہیں سکی اور نہ آسکتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے یہ تخلیقی کارنامے ختم نہیں ہوگئے بلکہ ہر آن جاری ہین۔ اور اس کی مخلوق میں ہر آن ترقی اور اضافہ ہو رہے۔ جیسا کہ بعض دوسری آیات مثلاً ٥١: ٤٧ اور ٥٥: ٢٩ میں یہ صراحت موجود ہے۔ لہذا اس آیت میں جو یہ بیان ہوا ہے کہ تمام درختوں کی قلمیں بنا لی جائیں اور سارے سمندر بلکہ اتنے اور بھی سیاہ بن جائیں تو یہ چیزیں تو ختم ہوسکتی ہیں مگر اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ اس میں کچھ مبالغہ معلوم نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ ان چیزوں کی خواہ کتنی ہی زیادہ تعداد ہو بہرحال وہ محدود ہے اور ان کا شمار کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ اللہ کے کلمات لامحدود ہیں۔ جن کا کچھ حد و حساب ممکن نہیں۔ اور یہ تو مسلمہ امر ہے کہ محدود چیز لامحدود کا کبھی احاطہ نہیں کرسکتی۔