سورة العنكبوت - آیت 35

وَلَقَد تَّرَكْنَا مِنْهَا آيَةً بَيِّنَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور ہم نے اس بستی کو عقل وہوش والوں کے لیے ایک کھلی نشانی بناکرچھوڑ دیا ہے

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[ ٥٣]عذاب کی نوعیت:۔ اس بدبخت قوم پر سب قوموں سے سخت عذاب آیا تھا۔ پہلے فرشتوں نے اس پورے خطہ زمین کو اپنے پروں پر اٹھایا۔ پھر بلند پر لے جاکر اسے الٹا کر زمین پر پٹخ دیا۔ اور اس زور سے زمین پر دے مارا کہ سارا خطہ زمین کی سطح سے کافی نیچے دھنس گیا۔ پھر اس بدبخت قوم پر پتھر برسائے گئے۔ اور اب یہ سارا علاقہ زیر آب آچکا ہے۔ اور اس سمندر کا نام بحرموت یا بحیرہ مردار ہے۔ جس کی گہرائیوں میں یہ بدمعاش قوم دفن کردی گئی تھی۔ اور یہ واقعہ نشانی اس لحاظ سے ہے کہ یہ علاقہ اس تجارتی شاہراہ پر واقع ہے جو مکہ سے شام کو جاتی ہے اور کفار مکہ اسے اپنے تجارتی سفروں میں آتے ہوئے بھی اور جاتے ہوئے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے کہ اس نافرمان اور بدمعاش اور سرکش قوم کا کیا حشر ہوا تھا۔