سورة العنكبوت - آیت 14

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور ہم نے نوح (٩) کو ان کی قوم کے لیے نبی بناکربھیجا تو وہ ان کے درمیان ساڑھے نوسوسال رہے، پھر طوفان نے ان کی قوم کو اپنی گرفت میں لے لیا، اس لیے کہ وہ ظالم لوگ تھے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[ ٢٤] پچھلی آیات میں ان کفار کا ذکر ہو رہا تھا جو دور نبوی میں رسول اللہ کے مخاطب اور مخالف تھے۔ آگے بعض دوسرے انبیاء اور ان کے مخالفین کا ذکر آرہا ہے اور ایسے واقعات کا آغاز حضرت نوح سے کیا جارہا ہے۔ حضرت نوح کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی۔ نو سو پچاس برس آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی پھر طوفان نوح کے بعد آپ ساٹھ برس زندہ رہے۔ اس لحاظ سے آپ کی کل عمر ایک ہزار پچاس برس بنتی ہے اور اپنی عمر کا بیشتر حصہ آپ نے اپنی قوم کو سمجھانے اور ان سے بحث و جدال میں گزارا۔ وہ لوگ گویا ان کفار مکہ سے بھی زیادہ بدبخت تھے۔ انہوں نے حضرت نوح کو اس قدر پریشان کیا اور ناک میں دم کردیا تھا کہ نوح نے ان سے تنگ آکر اور ان سے سخت مایوس ہو کر اللہ سے بددعا کی تھی کہ یا اللہ ان پر ایسی تباہی نازل فرما کہ ان میں سے ایک گھرانہ بھی زندہ نہ بچے۔ چنانچہ اللہ نے طوفان کے ذریعہ اس قوم کو تباہ کر ڈالا۔ اور یہ واقعہ پہلے کئی مقامات پر تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔