سورة النمل - آیت 80

إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکیں گے اور نہ بہروں کو اپنی آواز سنا سکیں گے جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں گے

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٨٤] اس آیت میں موتیٰ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں۔ یعنی آپ کی نصیحت اور ہدایت نہ تو ان لوگوں کو کچھ فائدہ دے سکتی ہے جن کے دل مرچکے ہیں اور نہ ان کو جن کے دلوں کے کان بہرہ ہوچکے ہیں۔ بالخصوص اس صورت میں وہ بہرے الٹے پاؤں بھاگے جارہے ہوں۔ بہرے کا بھی چہرہ اگر بات کرنے والے کی طرف ہو تو وہ متکلم کے اشاروں سے یا بات کرنے کے انداز سے ہی اس کا کچھ نہ کچھ مفہوم سمجھ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا رخ ہی بات کرنے والے سے الٹی طرف ہو، مزید براں وہ بھاگے جارہا ہو۔ تو اس سے کیا توقع ہوسکتی ہے کہ وہ متکلم کی بات کو کچھ نہ کچھ سمجھ سکے گا۔