سورة النمل - آیت 69

قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

آپ کہہ دیجئے تم زمین میں گھوم پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیساانجام ہوتا رہا ہے

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٧٤] ان دو آیات میں کافروں کا قول یہ نقل کیا گیا ہے کہ مر کر مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا وعدہ تو ہمارے آباء و اجداد کو بھی دیا گیا تھا پہلے لوگ بھی ایسی باتیں کرتے رہے اور آج بھی ایسی ہی باتیں ہو رہی ہیں حالانکہ جو مر گیا ان میں کوئی شخص بھی آج تک زندہ ہو کر نہیں آیا۔ یہ تو بس ایک افسانوی سی بات ہے جس میں حیقیقت کچھ نہیں۔ اور کافروں کے اس قول کا جواب یہ دیا جارہا ہے کہ زمین میں ذرا چل پھر کر تو دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا تھا ؟ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے اس قول اور اس کے جواب میں کوئی ربط نہیں۔ حالانکہ اس قول اور اس کے جواب میں گہرا ربط ہے اور ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو قومیں بھی اللہ کے عذاب سے تباہ ہوئیں سب کی سب قیامت اور بعث بعد الموت کی منکر تھیں۔ اور جو شخص یا جو قوم بھی آخرت کے دن اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کی باز پرس کی منکر ہوتی ہے۔ اس کی زندگی کبھی راہ راست پر نہیں رہ سکتی۔ اور وہ دنیا میں شتر بے مہار کی طرح زندگی گزارتا ہے کہ جس کام میں اس نے اپنا فائدہ دیکھا اسی کو اپنا لیا۔ خواہ اس سے دوسروں کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو رہا ہو۔ ایسے ہی لوگ فساد فی الارض کے مرتکب ہو کر مجرمانہ زندگی بسر کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں اور ایسے مجرموں کو تباہ کردینا ہی اللہ کی سنت جاریہ ہے تاکہ باقی لوگ ایسے لوگ کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ دوسرا سبق ان واقعات سے یہ ملتا ہے کہ تاریخ انسانی میں یہ کوئی ایک ہی واقعہ نہیں۔ بلکہ بے شمار تاریخی شواہد سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ رسولوں کا انکار اور آخرت کا انکار کرنے والے مجرموں کا انجام ان کی تباہی اور ہلاکت کی صورت میں ہوا۔ جس سے از خود ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے جو یہ ہے کہ کوئی ایسی مقتدر ہستی موجود ہے جو مجرموں کو ایک مقررہ حد سے آگے نکلنے سے روک دیتی ہے اور انھیں تباہ کردیتی ہے۔ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں کہ جس شخص کا جو جی چاہے کرتا پھرے اور اس پر گرفت کرنے والا کوئی نہ ہو۔ پھر جب یہ تجربہ حاصل ہوگیا کہ مجرمین کو ان کے کئے کی سزا مل کے رہتی ہے۔ تو اسی قانون مکافات کا تقاضا یہ ہے کہ جن مجرموں کو اس دنیا میں سزا نہیں ملی یا ان کے جرم سے بہت کم سزا ملی ہے ان سے باز پرس اور ان کی سزا کے لئے ایک دوسرا عالم قائم ہو۔ جس میں تمام مجرموں کو ان کے جرائم کی پوری پوری سزا دی جائے۔ مجرموں کو عذاب سے تباہ کردینا عدل سے سب تقاضے پورے نہیں کرتا۔ اس سے تو صرف یہ ہوتا ہے کہ مجرموں کو زائد جرائم کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ ان کے جرائم کی سزا کے لئے تو یہ دنیا کی زندگی بہت ناکافی ہے۔ اسی طرح جن مظلوموں نے ان مجرموں کے مظالم برداشت کئے تھے۔ ان کی ہلاکت سے ان کو کیا ملا ؟ آخر ان لوگوں نے راہ حق میں جو مظالم و مصائب برداشت کئے ہیں۔ اس کا اجر بھی تو انھیں ملنا چاہئے۔ ان باتوں پر غور کرنے سے واضح طور ہر معلوم ہوجتا ہے کہ عدل و اصناف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے آخرت کا قیام انتہائی ضروری ہے۔