سورة النمل - آیت 25

أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اسی لیے اس اللہ کو سجدہ نہیں کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو باہر نکالتا ہے، اور جو ان تمام باتوں کو جانتا ہے جنہیں تم چھپاتے ہو اور جنہیں ظاہر کرتے ہو۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٢٦] آیت نمبر ٢٥ اور ٢٦ کو بعض مفسرین نے ہدہد کے جواب گاہی تتمہ قرار دیا ہے اور بعض نے اسے ہدہد کے کلام پر اللہ تعالیٰ کی طرف مناسب اضاف قرار دیا ہے۔ اس آیت میں یعلم ما تخفون وما تعلنون سے دوسرا قول ہی راحج معلوم ہوتا ہے۔ خب معنی پوشیدہ اور مخفی خزانہ ( مفردات القرآن) اور اس سے مراد ایسا پوشیدہ اور مخفی خزانہ ہے جس کا پہلے سے کسی کو علم نہ ہو اور خبا بمعنی کسی چیز کو چھپا رکھنا اور خابا بمعنی کسی سے چیستان، پہیلی یا معمہ پوچھنا اور خب الارض بمعنی زمین کی نباتات جو ابھی ظہور میں نہ آوی ہو۔ قوت روئیدگی اور خب السماء بمعنی بارش اور آکرج حب السماء خب الارض بمعنی آسمان کی بارش نے سمین پر روئیدگی پیدا کی اور پودوں کو اگایا۔ اسی طرح زمین میں سے اگر کہیں سے تیل یا جلنے والی گیسیں یا معدنیات وغیرہ نکل آئیں تو یہ سب چیزیں خب الارض میں شمار ہوں گی۔ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ کرنے کے لائق تو وہ ذات ہے جو زمین و آسمان سے ان کی پوشیدہ چیزوں اور مخفی قوتوں کو روئے کار لاکر ان کی روزی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ نہ کہ سورج اور اس جیسی دوسری بے جان یا مخلوق و محتاج اشیاء نیز سجدہ کے لائق وہ ذات ہے جس کا علم اتنا وسیع ہوجو صرف زمین و آسمان ہی کی پوشیدہ قوتوں اور اشیاء کو جانتا ہے بلکہ وہ تمہارے بھی سب ظاہری اور پوشیدہ اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔