سورة الشعراء - آیت 225

أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[١٣٥] ان دو آیات میں شاعروں کی دو خصلتیں بیان فرمائیں ایک یہ کہ ان کے کلام میں تخیل ہی تخیل اور غلو کی حد تک پہنچائیں مبالغہ ہوتا ہے جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی کی تعریف کرنے بیٹھے تو اسے آسمان پر چرھا دیا کسی کی ہجو پر آئے تو اسے دنیا کی بدترین مخلوق بنا کر پیش کردیا۔ پھر اگر کسی سے کچھ انعام و اکرام مل گیا تو اس کی مدح سرائی شروع کردی۔ کسی کی پگڑی اچھالی۔ کہیں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی اور عشق لگائے بغیر تو کسی شاعر کی شاعری مکمل ہی نہیں ہوتی۔ کہیں محبوبہ سے شکایتیں ہیں، تو کہیں رقبیوں پر برس رہے ہیں، دور اذکار استعاروں اور تشبیہات کا استعمال اور اپنی ثناخوانیاں جن میں حقیقت کچھ بھی نہیں ہوتی۔ غرضیکہ زندگی کا کوئی میدان ایسا نہیں جن میں یہ اپنے تخیل کے گھوڑے نہ دوڑاتے ہوں اور سر نہ پھٹکتے پھرتے ہوں۔ ان کی زندگی کا نہ کوئی متعین مقصد ہوتا ہے اور نہ ہی یہ کسی اصول کے پابند ہوتے ہیں۔