سورة الشعراء - آیت 130

وَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور جب تم کسی کی گرفت کرتے ہو تو بڑی ظالمانہ گرفت کرتے ہو۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٨٣] اس قوم کے تین افعال کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا جن میں سے پہلے دو فن تعمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ لوگ یادگاریں بہت زیادہ تعمیر کرتے جن کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہ ہوتا تھا۔ کسی نے اپنی یادگار میں شاندار مقبرہ تعمیر کرالیا۔ کسی نے کوئی اونچا مینار بنایا۔ تو کسی نے کوئی بارہ دری تعمیر کرا دی۔ جیسے اہرام مصر ہیں یا روضہ تاج محل اور اسی طرح کی دوسری یادگاریں آج کل بھی پائی جیتی ہیں اور ان سے مقصود۔۔ ناموری یا نمودو نمائش ہوتا تھا۔ تغبثون سے بعض لوگوں نے مراد کھیل تماشا ہی لیا ہے۔ یعنی وہ ایسی بلند عمارتوں کو اوپر چڑھ کر کبوتر بازی اور پرندوں وغیرہ کا شکار بھی کیا کرتے تھے۔ دوسری قابل ذکر چیز یہ ہے کہ وہ اپنے رہائشی گھر بھی بہت اونچے، شاندار اور مضبوط بناتے تھے فلک بوس عمارتیں کھڑی کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ان کی ضرورت بھی تھی۔ ان کے قد بھی بہت لمبے ہوتے تھے اور عمریں بھی بہت دراز ہوتی تھیں اور اگر وہ معمولی قسم کا میٹریل عمارتوں میں استعمال کرتے وہ میٹریل ان کی زندگی میں ساتھ نہیں دیتا تھا اس صورت میں ہر شخص کو اپنی زندگی میں کئی بار مکان بنانے کی ضرورت پیش آسکتی تھی۔ قرآن نے ان کی اس عادت پر سخت۔۔ فرمائی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مکانوں کی تعمیر میں مضبوطی اور بلندی میں بہت مبالغہ سے کام لیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ شاندار تا ابد انھیں ان مکانات میں رہتا ہے۔ جب یہ قوم اللہ کے عذاب سے تباہ ہوئی تو بعد میں ان کی یہ مضبوط عمارتیں بھی کھنڈرات میں تبدیل ہوگئیں اور آج وہ کھنڈرات بھی معدوم ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں کی آسودہ حالی، عالیشان عمارات، اور جسمانی مضبوطی اور توانائی نے انتہائی متکبر بنا دیا تھا۔ انسان اور نرمی کا برتاؤ ان کی سرشت سے معدوم ہوچکا تھا۔ وہ دوسروں کے حقوق غصب کرنے میں بہت دلیر اور جری تھے۔ اپنے معاشرہ کے بھی کمزور اور ضعیف طبقہ پر بھی ظلم و ستم ڈھاتے تھے اور آس پاس کے علاقوں میں بھی ان کا رویہ جابرانہ اور تاپرانہ ہوتا تھا۔