سورة الشعراء - آیت 6

فَقَدْ كَذَّبُوا فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

پس اب جبکہ انہوں نے جھٹلا دیا تو جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے اس کی حقیقت ان کے سامنے کھل کر آجائے گی۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٥] یہ لوگ تو بارہ بار سمجھانے کے باوجود اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور مخالفت پر اڑے بیٹھے ہیں۔ ان لوگوں کا علاج یہ نہیں کہ کوئی معجزہ ان پر نازل کیا جائے کہ وہ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں۔ بلکہ اب ان کا علاج صرف یہ باقی رہ گیا ہے کہ انھیں جوتوں سے سیدھا کیا جائے۔ اور عنقریب انھیں ایسی بھی خبریں ملتی رہیں گی۔ جس سے ان کو واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ جن باتوں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ وہی باتیں برحق اور درست تھیں۔ اس کی ایک شکل تو یہ تھی کہ ان کی تمام تر معاندانہ کوششوں کے باوجود اسلام کو غلبہ نصیب ہوتا چلا گا اور یہ ہر ہر میدان میں مات کھاتے رہے اور ان کے لواحقین ایسی خبریں سنتے اور غم کے گھونٹ پیتے رہے اور پیتے رہیں گے اور دوسری صورت کی آخری منزل ان کی موت ہے۔ دنیا میں ہی جب یہ لوگ موت کی سرحد پر آن کھڑے ہوں گے تو ان پر ساری حقیقتیں منکشف ہوتی چلی جائیں گی۔ لہذا آپ ان کے عم میں ہلکان ہونا چھوڑ دیجئے۔