سورة الفرقان - آیت 74

وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور جو دعا مانگتے ہیں کہ ہمارے رب ! ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کو آنکھوں کی ٹھنڈک بنا اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٩٢] یہ بھی دعاء کا اگلا حصہ ہے۔ یعنی ہماری بیویوں اور اولاد کو نیک اور پرہیز بنا اور پھر ان سے بڑھ کر پرہیزگار بنا کہ ہم خود ان کے امام اور پیش رو ثابت ہوں۔ پھر یہ دعا صرف ازواج و اولاد تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ ہمیں اتنا نیک اور پرہیزگار بنادے کہ ہم دوسرے متقین کے لئے رہبر اور نمونہ بن جائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے بندوں کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ نیکی اور پرہیزگاری کے میان میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی آرزو اور اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس مقصد کے لئے اور اس میدان میں امت یا حکومت تک کے لئے آرزو کرنا یا دعا کرنا صرف جائز ہی نہیں تھا بلکہ ضروری ہے۔ جبکہ حب مال یا حب جاء کی غرض سے طلب امارت بے شمار صحیح احادیث کی رو سے ممنوع ہے لیکن موجودہ جمہوری دور کے بعض سیاسی لیڈر اسی آیتی سے طلب امارت کے جواز پر استدلال کرتے ہیں۔ وہ چاہتے یہ ہیں کہ متقی حضرات تو ان کی رعیت بنیں اور یہ سیاسی لیڈر، جیسے بھی کردار کے وہ مالک ہوں، ان کے حاکم بن جائیں۔ ایسی کج فکری خالصتاً کسی پکے دنیا دار کے ذہن کا نتیجہ ہی ہوسکتی ہے۔