سورة النور - آیت 49

وَإِن يَكُن لَّهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

او اگر وہ حق بجانب ہوتے ہیں تو اس کے پاس اطاعت گزار بن کر آجاتے ہیں۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٧٧] ذھن کے معنی نہایت فرمانبردار بن کر ساتھ ہو لینا یا اشاروں پر چلنا ہے۔ اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ منافق لوگ اللہ اور اس کے بلانے یا اس کے ہاں جانے سے اعراض صرف اس وقت کرتے ہیں جب انھیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے کا حق دبا رہے ہیں اور اگر رسول کے پاس گئے تو وہ یقیناً حق کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ لہذا ہمیں اس کے پاس جانے سے نقصان پہنچ جائے گا لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ ہم حق پر ہیں یا دوسرے کی طرف سے ان کا حق نکلتا ہے تو بلا چون و چرا نہایت فرمانبردار بن کر ساتھ ہو لیتے ہیں اس کی وجہ بھی وہی ہے ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ رسول حق کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا۔ ایسے لوگ دراصل رسول کی نہیں اپنے فائدے کی اتباع کرتے ہیں۔ پہلے سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ٤٣ کے حاشیہ میں گزر چکا ہے کہ ایک منافق اور ایک یہودی کے درمیان کچھ جھگڑا ہوگیا تھا۔ جس میں یہودی حق پر تھا۔ اور یہ چاہتا تھا کہ اپنا مقدمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے چلیں۔ جبکہ منافق یہ چاہتا تھا کہ یہ مقدمہ یہود کے سردار کعب بن اشرف کے پاس لے جائیں۔ اس مقدمہ کی تفصیل مذکورہ حاشیہ میں دیکھ لی جائے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت بھی اسی سلسلہ میں نازل ہوئی تھی۔ اس آیت سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص شریعت کی مفید مطلب باتیں تو بہ خوشی کرے مگر جو باتیں اس کی اغراض و خواہشات یا مفاد کے خلاف پڑتی ہوں ان سے اعراض کرے۔ وہ مومن نہیں۔ بلکہ منافق ہوتا ہے اور اپنے ایمان کے دعوے میں جھوٹا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ دراصل اپنی خواہشات کا پیروکار ہوتا ہے۔ شریعت کا نہیں ہوتا۔