سورة النور - آیت 29

لَّيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

ان گھروں میں داخل ہونے میں تم پر کوئی گناہ (١٧) نہیں جو غیر آباد ہوں، جن میں تمہارے مال و اسباب رکھے ہوں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو چھپاتے ہو اللہ ان کی خبر رکھتا ہے۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٣٧] یعنی ایسے گھر جس میں کوئی خاص آدمی نہ رہتے ہوں۔ جبکہ وہ ہر خاص و عام کے لئے کھلے ہوں۔ جیسے نمازوں کی ادائیگی کے لئے مساجد، کھانے پینے اور ہائش کے لئے ہوٹل اور سرائیں وغیرہ۔ ایسے مقامات میں داخل ہونے کے لئے کسی اذن لینے کی ضرورت نہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب ایسے گھر بھی ہوسکتے ہیں جو بے آباد، ویران اور گرے پڑے ہوں۔ ان کے مالک انھیں چھوڑ کر چلے گئے ہوں یا نہ معلوم ہوں۔ اور وہاں مثلاً گھاس وغیرہ اگ آئی ہو۔ اور کوئی شخص وہاں سے گھاس کاٹ لے۔ یا ایسا ہی دوسرا فائدہ وہاں سے ہر شخص اٹھا سکتا ہے۔ [٣٨] یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے لامحدود علم کی بنا پر اور تمام امور کی رعایت محفوظ رکھ کر یہ احکام دیئے ہیں جو تمارے تمام ظاہری اور باطنی اعمال و افعال سے خوب واقف ہے۔ اور ان سے مقصود فحاشی اور فتنہ و فساد کے راستوں کو بند کرنا ہے۔ لہٰذ ہر شخص کو چاہئے کہ اسی غرض کو مدنظر رکھ کر ان پر عمل پیرا ہو۔