سورة النور - آیت 28

فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّىٰ يُؤْذَنَ لَكُمْ ۖ وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ۖ هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

پس اگر تم ان میں سے کسی کو نہ پاؤ تو جب تک تمہیں اجازت نہ مل جائے ان میں داخل نہ ہو، اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس چلے جاؤ، تمہارے لیے یہی عمل پاکیزہ ہے، اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣٥] یعنی جب گھر والوں میں سے کوئی شخص بھی گھر میں موجود نہ ہو اس وقت ہرگز کسی دوسرے کے گھر میں داخل نہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ اس طرح ایک دوسرے کے متعلق کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہوسکتے ہیں اور وہ الزام تراشی سے بڑھ کر معاملہ تنازعہ شکل اختیار کرسکتا ہے اس سے استثناء کی صورت بہ صورت ہے کہ صاحب خانہ خود ہی کسی ملاقاتی کو اپنے کمرہ وغیرہ میں یہ کہہ کر بٹھلا جائے کہ تھوڑی دیر انتظار کرو۔ میں ابھی واپس آتا ہوں۔ اور اس طرح کی اجازت کی بھی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ [٣٦] ایسی اجازت لینے کی حد تین بار ہے۔ ممکن ہے پہلی بار اور دوسری بار اجازت کی بات کو صاحب خانہ سن ہی نہ پائے۔ یا وہ اپنے کسی کام میں سخت مشغول ہو اور اتنی جلدی دروازہ تک آ ہی نہ سکتا ہو۔ لہذا تین بار اجازت کا حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ اجازت تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد طلب کرنا چاہئے اور اگر تین بار اجازت طلب کرنے پر بھی اندر سے کوئی جواب نہ ملے تو ملاقات یا داخلہ کے لئے مزید اصرار نہ کرنا چاہئے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ میں انصار کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا کہ ابو موسیٰ اشعری آئے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ دوڑے ہوئے اور گھبرائے ہوئے ہیں۔ وہ کہنے لگے : ''میں حضرت عمر (رض) کے ہاں گیا تھا میں نے تین بار اذن مانگا مگر مجھے اذن نہیں ملا آخر میں لوٹ گیا۔ پھر مجھے حضرت عمر (رض) نے پوچھا : ''تم کھڑے کیوں نہ رہے؟'' (انتظار کیوں نہ کیا ؟) ابو موسیٰ اشعری کہنے لگے : ''میں نے تین بار اذن مانگا اور مجھے اذن نہ ملا تو میں لوٹ آیا۔ اور آپ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص تین بار اذن مانگنے پر اسے اذن نہ دیا جائے۔ تو لوٹ آئے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا کہ : اللہ کی قسم! تجھے اس حدیث پر کوئی گواہ لانا ہوگا'' اب بتلاؤ کیا تم سے کسی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حدیث سنی ہے؟'' حضرت ابی بن کعب کہنے لگے : اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ وہ آدمی شہادت دے گا جو ہم سب میں جھوٹا ہو'' اور ان سب میں جھوٹا میں ہی تھا۔ چنانچہ میں ابو موسیٰ اشعری کے ساتھ گیا اور حضرت عمر (رض) کو بتلایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واقعی ایسا فرمایا ہے'' امام بخاری کہتے ہیں کہ اس سے حضرت عمر (رض) کا ارادہ محض حدیث کا توثیق تھا۔ یہ نہیں کہ وہ خبر راہ کو درست نہ سمجھتے تھے۔ (بخاری۔ کتاب الا ستیعان۔ باب التعلیم والاستیذان ثلثاً) اور اگر صاحب خانہ دروازہ وغیرہ کھٹکھٹانے پر پوچھے کہ کون ہے؟ تو ایسے واضح الفاظ میں اپنا تعارف کرانا یا نام بتلانا چاہئے جس سے صاحب خانہ کو علم ہوجائے کہ فلاں شخص داخلہ کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث میں واضح ہے۔ ١۔ حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں آپ کے پاس اس قرضہ کے سلسلسہ میں بات کرنے کے لئے حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازے کھٹکھٹایا۔ آپ نے (اندر سے) پوچھا کون ہے؟'' میں نے کہا : ''میں ہوں، آپ نے فرمایا : ''میں تو میں بھی ہوں'' گویا آپ نے (نام بتلانے کے بجائے) میں ہوں کہنے کو برا سمجھا۔ (بخاری۔ حوالہ ایضاً) ٢۔ اور اجازت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بیرونی دروازہ کے بالکل سامنے نہ کھڑا ہو۔ جبکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہو تاکہ جب صاحب خانہ یا اس کا ملازم یا کوئی اور گھر کا فرد دروازہ کھولے تو اجازت ملنے سے پہلے ہی ملاقاتی کی نظر اندر تک نہ چلی جائے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ : ''جب نگاہ اندر چلی گئی تو پھر اذن کا مقصد ہی فوت ہوگیا۔'' (ابوداؤد۔ کتاب الادب۔ باب فی الاستیعذان) ٣۔ نیز آپ نے فرمایا کہ : ''نظر بازی کی وجہ سے ہی تو اذن کا حکم دیا گیا ہے۔'' (مسلم۔ کتاب الاستیعذان باب تحریم النظر فی بیت غیرہ) ٤۔ اور نظر بازی یا کسی کے گھر میں جھانکنا بہت بڑا گناہ ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا : اگر کوئی شخص تمہارے مکان میں جھانکے اور تم کنکر مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔'' (بخاری۔ کتاب الایات باب من اطلع فی بیت قوم) یعنی اگر کوئی شخص ایسے بدنظر شخص کی آنکھ پھوڑ بھی دے تو اس کا قصاص وغیرہ کچھ نہ ہوگا۔