سورة المؤمنون - آیت 100

لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ كَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں وہاں جاکر عمل صالح کروں، ہرگز نہیں، یہ محض ایک لفظ ہے جسے وہ کہہ رہا ہے (اسے دوبارہ بھی توفیق عمل نہیں ہوگی) اور وہ لوگ اپنی موت کے بعد قیامت کے دن تک عالم برزخ میں رہیں گے۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٩٦] کلا یہاں دو معنی دے رہا ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ چونکہ مرنے کے بعد دوبارہ کسی انسان کو اس دنیا میں واپس بھیجنا میرے قانون اور میری مشیت کے خلاف ہے۔ لہذا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اور دوسرا یہ کہ یہ جو مرنے والا کہہ رہا ہے کہ میں اب دنیا میں جاکر برے اعمال کے بجائے نیک اعمال بجا لاؤں گا تو یہ ایک بے کار سی بات ہے۔ کیونکہ موت کے وقت کے حالات کا مشاہدہ کرلینے اور فرشتوں کو دیکھ لینے کے بعد تو ایمان بالغیب رہتا ہی نہیں۔ اور مطلوب ایمان بالغیب ہے نہ کہ ایمان بالشہادۃ موجود اور دیکھی ہوئی چیز کا اقرار تو ہر شخص کرلیتا ہے اور اسے ایمان یا ایمان بالغیب نہیں کہہ سکتے نہ ہی اس عورت میں یہ دنیا دارالامتحان رہتی ہے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ انسان کی عادت ہے کہ مصیبت کے وقت اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے پھر جب وہ مصیبت دور ہوجائے اور خوشحالی میسر ہو تو وہ مصیبت کے اوقات اور اس مصیبت میں اللہ کے کئے ہوئے وعدہ وغیرہ سب کچھ بھول جاتا ہے۔ اور اس صورت کی عام مشاہدہ سے بھی تائید ہوجاتی ہے۔ اور قرآن کریم کی کئی آیات سے بھی۔ اس لحاظ سے بھی کسی مرنے والے انسان کو دوبارہ دنیا میں بھیجنا بے کار ہے۔ لہذا موت کے وقت جو کچھ وہ مرنے والا کہہ رہا ہے محض ایک بکواس ہی ہوگی جس کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ [٩٧] یہاں برزخ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی پردہ، آڑ، روک وغیرہ ہے اور بعض کے نزدیک یہ لفظ فارسی لفظ پردہ ہی کا معرب ہے۔ لیکن، روک یا پردہ ایسا نہیں جیسے دو چیزوں کے درمیان کوئی کپڑا لٹکا کر یا دیوار بنا کر ہر چیز کو دوسری سے اوجھل کردیا جاتا ہے۔ جبکہ اس روک میں ایک طویل مدت زمانی بھی شامل ہے۔ اور یہ برزخ کسی انسان کی موت کے وقت سے لے کر اس کے دوبارہ جی اٹھنے تک کے زمانہ کو محیط ہے۔ اہل برزخ سے عالم دنیا بھی اوجھل ہوتا ہے اور عالم عقبیٰ سے بھی۔ اس عالم برزخ کو اللہ تعالیٰ نے موت کے زمانہ سے تعبیر کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس عرصہ کے دوران موت کے اثرات غالب ہوتے ہیں۔ تاہم روح چونکہ زندہ ہی رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہوتی ہے۔ لہذا اس عرصہ میں ہی زندگی کے تھوڑے بہت آثار پائے جاتے ہیں۔ اس عرصہ میں بہت کو عذاب و ثواب بھی ہوتا ہے لیکن عذاب و ثواب قیامت کے عذاب و ثواب کی نسبت بہت ہلکا ہوتا ہے اسی عرصہ کے عذاب کو عذاب قبر کہتے ہیں خواہ میت کا جسم قبر میں موجود ہو یا گل سڑ گیا ہو یا درندوں نے کھالیا ہو یا پانی کی تہہ میں چلا گیا ہو۔